اپنا یا اپنی پسند کا نام لکھ کر تلاش کریں . Roman Urdu Main Bhi likh Sakte Hain

Sunday, March 10, 2013

Ahmad faraz



احمد فراز


تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے

پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے 



پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا


اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے 



کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے


اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے 



اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں


اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے 



سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر


پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے 


اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم

اب کے گئے تو کوئے ستم گرکے ہو گئے 



روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فراز تم


دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے

No comments:

Post a Comment