اپنا یا اپنی پسند کا نام لکھ کر تلاش کریں . Roman Urdu Main Bhi likh Sakte Hain

Thursday, September 17, 2015

ہستی اپنی حباب کی سی ہے ۔ میر تقی میر کی ایک خوبصورت غزل


ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہئیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
میر اُن نیم باز آنکھوں میں 
ساری مستی شراب کی سی ہے

میر تقی میر

No comments:

Post a Comment