آئیں ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم ِدعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز ِ محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں
آئیں عرض گزاریں کہ نگار ِ ہستی
...زہرِ ِ امروز میں شیرینی فرداں بھر دے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیںان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
جن کا دین پیرویءکذب و ریا ہے، ان کو
ہمت ِ کفر ملے،جرات تحقیق ملے
جن کے سر منتظر ِتیغ ِ وفا ہیں، ان کو
دست ِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
عشق کا سر ِ نہاں جان بتاں ہے جس سے
آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے
حرف ِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
د عا--فیض احمد فیض
ہم جنہیں رسم ِدعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز ِ محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں
آئیں عرض گزاریں کہ نگار ِ ہستی
...زہرِ ِ امروز میں شیرینی فرداں بھر دے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیںان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
جن کا دین پیرویءکذب و ریا ہے، ان کو
ہمت ِ کفر ملے،جرات تحقیق ملے
جن کے سر منتظر ِتیغ ِ وفا ہیں، ان کو
دست ِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
عشق کا سر ِ نہاں جان بتاں ہے جس سے
آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے
حرف ِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
د عا--فیض احمد فیض
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یارکہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینہء غمِ دل
جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں بانہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنادبی دبی تھی تھکن
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ وہ دل کی گھڑی نہیں آئ
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
*
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یارکہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینہء غمِ دل
جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں بانہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنادبی دبی تھی تھکن
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ وہ دل کی گھڑی نہیں آئ
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
*
صبح آزادی------------------------- ----فیض احمد فیض
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
...یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
...چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
. . .
ابھی گرانئ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
**یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
...یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
...چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
. . .
ابھی گرانئ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
لوح قلم
ہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانئ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
ہاں تلخئ ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے
منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے
مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سرخئ مے سے
تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے
باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگِ لب و رخسارِصنم کرتے رہیں گے
اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
فیض احمد فیض
No comments:
Post a Comment