بدلتی رُت کا اشارہ دیکھتے ہیں
اَب کیسے ہوگا گزارا دیکھتے ہیں
محبت کی یہ رسم بھی کتنی عجیب ہے
جانے والے پلٹ کر دوبارہ دیکھتے ہیں
ڈُوبنے والے ڈُوبنے سے ذرا پہلے
...ایک اُمید پر کنارا دیکھتے ہیں
تیری خُدائی سے گلہ ہونے لگتا ہے
جب دُنیا میں کوئی اور سہارا دیکھتے ہیں
کیا محبت ہمیں بھی راس آئے گی؟
آؤ اپنا ستارہ دیکھتے ہیں
اَب کیسے ہوگا گزارا دیکھتے ہیں
محبت کی یہ رسم بھی کتنی عجیب ہے
جانے والے پلٹ کر دوبارہ دیکھتے ہیں
ڈُوبنے والے ڈُوبنے سے ذرا پہلے
...ایک اُمید پر کنارا دیکھتے ہیں
تیری خُدائی سے گلہ ہونے لگتا ہے
جب دُنیا میں کوئی اور سہارا دیکھتے ہیں
کیا محبت ہمیں بھی راس آئے گی؟
آؤ اپنا ستارہ دیکھتے ہیں
No comments:
Post a Comment