اپنا یا اپنی پسند کا نام لکھ کر تلاش کریں . Roman Urdu Main Bhi likh Sakte Hain

Thursday, August 4, 2011

Mutafa zeedi

شاعر مصطفٰی زیدی

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
...
ہم اُن کے پاس جاتے ہیں مگر آہِستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو چِلمنوں کے راز کو سمجھو
اُٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں
پِیو اِن انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ
یونہی اِک روز اپنے دل کا قصّہ بھی سنا دینا
خطاب آہِستہ آہِستہ نظر آہستہ آہستہ

No comments:

Post a Comment